پڑھو، سیکھو اور اپنے رب کو پہچانو
(تحریر: جنید عبدالقیوم شیخ سولاپور)
قرآن مجید کا پہلا نازل ہونے والا لفظ "اِقْرَأْ" — پڑھو تھا۔ یہ بات ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں، لیکن ایک سوال شاید کم ہی سوچتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے "پڑھو" کہنے کے فوراً بعد کیا فرمایا؟ جواب میں پہلی وحی کا پورا پیغام چھپا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف "پڑھو" نہیں فرمایا بلکہ فرمایا: "اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" یعنی "پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔" گویا علم کے پہلے ہی سبق کو انسان کے خالق سے جوڑ دیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہونے سے پہلے آپ ﷺ مکہ مکرمہ کے قریب غارِ حرا میں کئی کئی راتیں عبادت میں گزارتے تھے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی۔ پھر وہ عظیم لمحہ آیا جب جبرائیل علیہ السلام غارِ حرا میں حاضر ہوئے اور کہا: "اِقْرَأْ" — پڑھو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَا أَنَا بِقَارِئٍ" یعنی "میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔" جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو مضبوطی سے بھینچا۔ تین مرتبہ یہ عمل ہوا، پھر سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیات نازل ہوئیں۔
"پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو علق سے پیدا کیا۔ پڑھو، اور تمہارا رب سب سے زیادہ کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔ انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔"
(سورۂ العلق: 1–5)
غور کیجیے، صرف پانچ آیات میں کتنی بڑی حقیقتیں جمع کردی گئیں: رب، تخلیق، علم، قلم اور تعلیم۔ انسان کو بتایا گیا کہ تم خود اپنے خالق نہیں ہو اور تم پیدائشی طور پر عالم بھی نہیں تھے۔ جس اللہ نے تمہیں پیدا کیا، اسی نے تمہیں سیکھنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ اس لیے علم انسان کے اندر غرور نہیں بلکہ عاجزی اور شکر پیدا کرنے والا ہونا چاہیے۔
پہلی وحی میں قلم کا ذکر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے: "جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔" لکھنے کے ذریعے علم محفوظ ہوتا اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے۔ آج قلم کے ساتھ کمپیوٹر اور دوسرے جدید ذرائع بھی علم محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، مگر سیکھنے، سمجھنے اور لکھنے کی صلاحیت بالآخر اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے۔
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔ "اِقْرَأْ" کو صرف جدید سائنس یا دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا حکم قرار دینا درست نہیں۔ آیت کہتی ہے: "اپنے رب کے نام سے پڑھو۔" مسلمان کے لیے سب سے اہم علم وہ ہے جو اسے اللہ تعالیٰ، صحیح عقیدے، قرآن و سنت اور دین کے احکام سے واقف کرے۔ اس کے ساتھ طب، سائنس، ریاضی، ٹیکنالوجی اور دوسرے مفید دنیاوی علوم بھی انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں اور انہیں اچھے اور جائز مقصد کے لیے سیکھا جاسکتا ہے۔
پہلی وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ گھر واپس تشریف لائے اور فرمایا: "مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔" حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور آپ ﷺ کے بہترین کردار کا ذکر کیا کہ آپ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرتے، ضرورت مندوں کی مدد کرتے، مہمان نوازی کرتے اور مصیبت میں لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہاں علم کے ساتھ کردار کا ایک خوبصورت سبق بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ اچھی تعلیم وہ ہے جس کا اثر انسان کے اخلاق اور عمل میں بھی دکھائی دے۔
آج ہم بچوں سے پوچھتے ہیں: کتنے نمبر آئے؟ کون سا رینک ملا؟ آگے کون سی ڈگری لو گے؟ لیکن شاید ایک سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہے: جو کچھ تم نے پڑھا، اس نے تمہیں کیسا انسان بنایا؟ اگر علم کے ساتھ سچائی، عاجزی، ذمہ داری اور اچھا کردار پیدا نہ ہو تو تعلیم کا ایک اہم مقصد ابھی باقی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ خوبصورت دعا سکھائی:
رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا — "اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔"
(سورۂ طٰہٰ: 114)
قرآن کی پہلی وحی ہمیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں جگاتی، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ علم کی سمت کیا ہونی چاہیے۔ پڑھو، سیکھو، لکھو اور آگے بڑھو؛ مگر اپنے رب کو مت بھولو۔ علم بڑھے تو عاجزی بڑھے، کامیابی ملے تو شکر بڑھے اور تعلیم بڑھے تو کردار بہتر ہو۔
کیونکہ قرآن کا پہلا لفظ "اِقْرَأْ" ضرور تھا، مگر اس کے فوراً بعد آنے والے الفاظ اس سے بھی اہم سمت دکھاتے ہیں:
"بِاسْمِ رَبِّكَ" — اپنے رب کے نام سے۔
حوالہ: سورۂ العلق، آیات 1 تا 5؛ سورۂ طٰہٰ، آیت 114؛ صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث نمبر 3۔
پڑھو، سیکھو اور اپنے رب کو پہچانو
Reviewed by Junaid Sir Solapur
on
أغسطس 07, 2026
Rating: